MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیں

غزل

کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیں
اشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیں

کیوں ترے ہجر کے منظر پہ ستم ڈھاتے ہیں
زخم بھی دیتے ہیں اور خواب بھی دکھلاتے ہیں

ہم بھی ان بچوں کی مانند کوئی پل جی لیں
ایک سکہ جو ہتھیلی پہ سجا لاتے ہیں

یہ تو ہر روز کا معمول ہے حیران ہو کیوں
پیاس ہی پیتے ہیں ہم بھوک ہی ہم کھاتے ہیں

ہر بڑا بچوں کو جینے کی دعا دیتا ہے
ہم بھی شاید اسی ورثے کی سزا پاتے ہیں

صبح لے جاتے ہیں ہم اپنا جنازہ گھر سے
شام کو پھر اسے کاندھوں پہ اٹھا لاتے ہیں

شہر کی بھیڑ میں کیا ہو اسی خاطر آذرؔ
اپنی پہچان کو ہم گھر میں ہی چھوڑ آتے ہیں

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم