MOJ E SUKHAN

گزریں گے تیرے دور سے جو کچھ بھی حال ہو

گزریں گے تیرے دور سے جو کچھ بھی حال ہو
خود کون چاہتا ہے کہ جینا محال ہو

میں نے تمام عمر گزاری ہے دل کے ساتھ
لاؤ مرے حضور جو امر محال ہو

یہ سوچ کر فریب محبت میں آ گئے
ہم اتنے خوش کہاں جو نتیجہ ملال ہو

میں جیسے اجنبی کوئی اپنے دیار میں
تم جیسے میرے ذہن میں کوئی سوال ہو

دل کے معاملات ہی یارو عجیب ہیں
اپنی خبر نہیں ہے تو کس کا خیال ہو

ہم احتیاط دیدہ و دل سے گزر چکے
آ جائے سامنے جو خدائے جمال ہو

سوز غم حیات سے انجمؔ گریز کر
لوہا نہیں ہے دل جو تپانے سے لال ہو

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم