MOJ E SUKHAN

ماضی کا تجسس ہے نہ فردا کی خبر ہے

ماضی کا تجسس ہے نہ فردا کی خبر ہے
اک لمحۂ موجود ہے اور اپنا سفر ہے

قابو میں ہیں اعصاب نہ جذبات نہ انفاس
بکھری ہوئی ہر چیز ہے پھیلا ہوا گھر ہے

ہر ثابت و سیار کی اک حد ہے مقرر
افلاک کی وسعت میں بھی دیواریں ہیں در ہے

کیا لمحۂ تشکیک کوئی ذہن میں اترا
کیا بات ہے کیوں فکر مری زیر و زبر ہے

آئینہ گری سیکھ تو لی شہر میں سب نے
کیا آئنہ اوصاف کوئی آئینہ گر ہے

مربوط ہے تہذیب کہن سے مرا رشتہ
لہجے میں بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے

کچھ اتنا بڑھا بوجھ سبک ہو گیا شانہ
یہ عشق بھی اے رازؔ عجب بار دگر ہے

رفیع الدین راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم