MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہاں وہاں کی بلندی میں شان تھوڑی ہے

یہاں وہاں کی بلندی میں شان تھوڑی ہے
پہاڑ کچھ بھی سہی آسمان تھوڑی ہے

مرے وجود سے کم تیری جان تھوڑی ہے
فساد تیرے مرے درمیان تھوڑی ہے

ملے بنا کوئی رت ہم سے جا نہیں سکتی
ہمارے سر پہ کوئی سائبان تھوڑی ہے

یہ واقعہ ہے کہ دشمن سے مل گئے ہیں دوست
مرا بیان برائے بیان تھوڑی ہے

کرم ہے مجھ پہ کسی اور کے جلانے کو
وہ شخص مجھ پہ کوئی مہربان تھوڑی ہے

وہ ہم خیال ہے اسلوب اس کا جو بھی ہو
رقیب ہی تو ہے چنگیز خان تھوڑی ہے

شجاعؔ شاعری ہوتی ہے ذات کے بل پر
مری کمک پہ کوئی خاندان تھوڑی ہے

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم