قریہ قریہ بھٹک رہا ہوں
صلیب غم پہ لٹک رہا ہوں
ستم رسیدہ میں سنگ راہ ہوں
نظر نظر میں کھٹک رہا ہوں
سکون قلب و جگر کی خاطر
میں صحرا صحرا بھٹک رہا ہوں
وصل کی امید لے کے بسمل
جنوں میں سر کو جھٹک رہا ہوں
اقبال بسمل
قریہ قریہ بھٹک رہا ہوں
صلیب غم پہ لٹک رہا ہوں
ستم رسیدہ میں سنگ راہ ہوں
نظر نظر میں کھٹک رہا ہوں
سکون قلب و جگر کی خاطر
میں صحرا صحرا بھٹک رہا ہوں
وصل کی امید لے کے بسمل
جنوں میں سر کو جھٹک رہا ہوں
اقبال بسمل