MOJ E SUKHAN

اک پریشاں سی روایت ہم ہیں

اک پریشاں سی روایت ہم ہیں
کچھ سہی پھر بھی غنیمت ہم ہیں

جب یہ سوچا ہے تو اور اُلجھے ہیں
اتنے کیوں سادہ طبیعت ہم ہیں

ہر قدم کہتے ہیں کچھ تازہ نقوش
اے مسافر تری ہمت ہم ہیں

کوئی قاتل ہو تو دیں اُس کا پتہ
کُشتۂ تیغ شرافت ہم ہیں

چشمِ تحقیق سے دیکھا تو کھُلا
وقت کی ساری اذیت ہم ہیں

ناخدا دیکھتے ہیں یوں ہم کو
جیسے طوفاں کی علامت ہم ہیں

اس سے بڑھ کر بھی قیامت ہوگی
ذردے کہتے ہیں قیامت ہم ہیں

جُرمِ خاطر شکنی کون کرے
ہدفِ سنگِ ملامت ہم ہیں

آج جب دار ہے حق کا اعزاز
معجزہ ہے کہ سلامت ہم ہیں

محشر بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم