MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر منظر ادراک میں پھر جان پڑی ہے

ہر منظر ادراک میں پھر جان پڑی ہے
احساس فراواں ہے کہ ساون کی جھڑی ہے

ہے وصل کا ہنگام کہ سیلاب تجلی
طوفان ترنم ہے کہ الفت کی گھڑی ہے

تہذیب الم کہیے کہ عرفان غم ذات
کہنے کو تو دو لفظ ہیں ہر بات بڑی ہے

سایہ ہو شجر کا تو کہیں بیٹھ کے دم لیں
منزل تو بہت دور ہے اور دھوپ کڑی ہے

سینے پہ مرے وقت کا یہ کون گراں ہے
نیزے کی انی یا کہ کلیجے میں گڑی ہے

وہ میری ہی گم گشتہ حقیقت تو نہیں ہے
رستے میں کئی روز سے شے کوئی پڑی ہے

ہر لحظہ پروتی ہوں بکھر جاتے ہیں ہر بار
لمحات گریزاں ہیں کہ موتی کی لڑی ہے

ہم اور خدا کا بھی یہ احسان اٹھاتے
انسان ہیں کچھ ایسی ہی بات آن پڑی ہے

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم