MOJ E SUKHAN

اللہ اللہ یہ میکدے کا نظام

اللہ اللہ یہ میکدے کا نظام
مقتدی ہے کوئی نہ کوئی امام

جام پر لب ہے، لب پر تیرا نام
روز و شب، شام و صبح، صبح و شام

ہے یہ دنیائے عاشقی کا نظام
مرگ آغاز، زندگی انجام

دلِ نازک امینِ سوزِ تمام
عشق فطرت کا آتشیں پیغام

ہے مآلِ جفا، وفا انجام
عشق آزاد اور حُسن غلام

ماسِوا کا بھلا یہاں کیا کام
کعبہء عشق میں ہے حُسن امام

ان کا جلوہ نشاطِ مستی و کیف
موج در موج، اور جام بہ جام

گردشِ روزگار بھی ہے شہید
صرف میں ہی نہیں قتیلِ خرام

جس پہ قربان کُل جہانِ نیاز
ہاں ذرا مُسکرا کے پھر وہ سلام

میں خود اپنے خیال سے آزاد
تو اسیرِ غمِ حلال و حرام

اب کہاں نورِ قشقہء رنگیں
اب کہاں جلوہ ہائے ماہِ تمام

زندہ رہنا ہے اِک جہادِ عظیم
خودکشی ہجر میں ہے جذبہء خام

مر کے بھی ہم دکھائے دیتے ہیں
پھر نہ دینا ہمیں کوئی الزام

مرگیا بُتکدے میں ساغر آج
وہ مُرید تبسّمِ اصنام​

ساغر نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم