MOJ E SUKHAN

فرصت کسے ملتی ہے خیالوں کے سفر سے

فرصت کسے ملتی ہے خیالوں کے سفر سے
جو گھر میں نظر آتے ہیں باہر ہیں وہ گھر سے

ممکن ہے کسی موڑ پہ انساں کوئی مل جائے
گزرا ہوں اسی فکر میں ہر راہ گزر سے

ہر ذہن میں کچھ بغض ہے ہر دل میں عداوت
دیکھوں تو کسے دیکھوں محبت کی نظر سے

ہر دل پہ ملے نقش و نگارِ غمِ دوراں
آئینہ کوئی صاف نہیں گردِ سفر سے

سجتی رہیں ذرات کے تاروں سے فضائیں
دیوانے فدا خاک اڑاتے رہے سر سے۔

فدا خالدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم