MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رائیگانی بھی مار دیتی ہے

رائیگانی بھی مار دیتی ہے
زندگانی بھی مار دیتی ہے

جس کے انجام میں وچھوڑا ہو
وہ کہانی بھی مار دیتی ہے

لوٹ کو جو نہ آ سکے اس کی
اک نشانی بھی مار دیتی ہے

خواب آنکھوں میں دفن رہتے ہیں
بدگمانی بھی مار دیتی ہے

سانس لینا بھی بول جاتا ہے
بے دھیانی بھی مار دیتی ہے

کچھ زمانہ ستائے دیتا ہے
کچھ جوانی بھی مار دیتی ہے

یک بہ یک چھوڑنا بھی مشکل ہے
آنا کانی بھی مار دیتی ہے

زرد موسم ہی دکھ نہیں دیتا
رت سہانی بھی مار دیتی ہے

دل کو آنکھوں کے بہتے دریا کی
یہ روانی بھی مار دیتی ہے

کیا عجب کھیل ہے انا کا کرن
کامرانی بھی مار دیتی ہے


کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم