MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وفا کی جائے پر اس کی اداکاری نہ کی جائے

وفا کی جائے پر اس کی اداکاری نہ کی جائے
وگرنہ اب کسی سے دوستی یاری نہ کی جائے

محبت آپ ہو جائے تو کی جائے سدا لیکن
دکھانے کے لیے یہ کیفیت طاری نہ کی جائے

بنا کر بات کرنے سے بنی ہے بات کب اے دل
سو عرضِ حال کی پہلے سے تیاری نہ کی جائے

بھلا کی ہے کسی نے رونے والوں کی کبھی پروا
سو اپنوں کے بھی آگے گریہ و زاری نہ کی جائے

تو کیا اب عمر بھر رہنا پڑے گا اجنبی بن کر
تو کیا اب دوستوں کی بھی طرف داری نہ کی جائے

ہر اک مظلوم سے ہر حال میں کی جائے ہمدردی
مگر ظالم کی کچھ ہو جائے دل داری نہ کی جائے

بجز نام و نمائش اور ہے ہی کیا جواز اس کا
اگر غمگین لوگوں کی ہی غم خواری نہ کی جائے

ڈاکٹر اقبال پیرزادہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم