MOJ E SUKHAN

نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجت

نظر تج پہ ہے کیا تماشا کا حاجت
نہیں سبز خط آگے چمپا کا حاجت

طبیباں کریں منج کوں بالی سوں دارو
کہ بالی ہیں موہن ہے بالا کا حاجت

ہمیں نیشکر نمنے ہلجے ہیں بند میں
نہیں ہور ہمنا کوں جالا کا حاجت

خماری نین تھے کھلے پھول جیو میں
نہیں مو کو دونا و بالا کا حاجت

مرا دل ہے زر بفت کا کارخانہ
نہیں منج بازار والا کا حاجت

تو کہنیاں کتاباں کے جیو میں لکھیا ہوں
معما ہے نیں کھول کہنا کا حاجت

انگوٹھی سلیماں کی تج ہات میں ہے
سکندر کے درپن اجالا کا حاجت

مرا دل کندن حسن کا کھان ہے تو
نہیں ہے سناری تقاضا کا حاجت

ہمن مدعا مدعی نا بجھے کچ
نکو بحث کرنیں ہے اعدا کا حاجت

معانیؔ ترا زرگری کوئی نہ بوجھیں
کہ اس علم میں نیں ہے دانا کا حاجت

قلی قطب شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم