MOJ E SUKHAN

بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے

بجز اس کے کوئی رونا نہیں ہے
کہ کل مجھ کو یہاں ہونا نہیں ہے

نہ ہو جس بیج میں خواہش نمو کی
مجھے وہ بیج ہی بونا نہیں ہے

تجھے پانا ہے لیکن تیری خاطر
خود اپنے آپ کو کھونا نہیں ہے

ہیں مٹی میں سفر کے لاکھ رستے
اتر کر خاک میں سونا نہیں ہے

مرے ہونے سے ہی سب کچھ ہے لیکن
مرا ہونا مرا ہونا نہیں ہے

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم