MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر نفس ان کی بات کی جائے

ہر نفس ان کی بات کی جائے
یوں بسر اب حیات کی جائے

بجھ رہے ہیں چراغ اشکوں کے
کیسے تابندہ رات کی جائے

تشنگی کا یہی تقاضہ ہے
چشم ساقی سے بات کی جائے

اہتمام سفر بھی لازم ہے
کچھ تو فکر نجات کی جائے

اپنے ہی غم پہ تبصرہ نہ کروں
کیوں زمانے کی بات کی جائے

زیست کا لطف جب ہے اے صادقؔ
صرف توصیف ذات کی جائے

صادق دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم