MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اذنِ خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم

اذنِ خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم
ہٹ کر چلے ہیں رہ گزرِ کارواں سے ہم

کیونکر ہوا ہے فاش زمانے پہ ، کیا کہیں
وہ رازِ دل جو کہہ نہ سکے رازداں سے ہم

ہمدم یہی ہے رہگزرِ یارِ خوش خرام
گزرے ہیں لاکھ بار اسی کہکشاں سے ہم

کیاکیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئے
الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم

ٹھکرا دئیے ہیں عقل و خرد کے صنم کدے
گھبرا چکے ہیں کشمکشِ امتحاں سے ہم

بخشی ہیں ہم کو عشق نے وہ جراتیں مجاز
ڈرتے نہیں سیاستِ اہلِ جہاں سے ہم

اسرارالحق مجاز​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم