MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے
ترا بدن اس چراغ پارے میں جاگتا ہے

گریز کیسے کرے گا میرے وجود سے تو
کہ تیرا سورج مرے ستارے میں جاگتا ہے

مجھے خبر ہے خموش سویا ہوا یہ دریا
کہیں کسی دوسرے کنارے میں جاگتا ہے

بہت کٹھن تو نہیں ہے سچ کو تلاش کرنا
کہ یہ لہو کے ہر استعارے میں جاگتا ہے

وہ شخص یوں ہی نہیں مرے ساتھ چلنے والا
کہیں کوئی فائدہ خسارے میں جاگتا ہے

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم