MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا

میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا
آگ کو پیرہن خاک سے باہر رکھا

زیب تن ہم نے بھی کر رکھی یہ دنیا لیکن
تیرے ہر رنگ کو پوشاک سے باہر رکھا

خواب در خواب تجھے ڈھونڈنے والوں نے بھی اب
نیند کو دیدۂ نمناک سے باہر رکھا

اک طرح دھیان ہی ایسا کہ جسے ہم نے یہاں
نفع نقصان کے پیچاک سے باہر رکھا

اجرت عشق بہت کم تھی سو ہم نے شہزادؔ
دل کو اس تنگئ افلاک سے باہر رکھا

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم