MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا
گھر کا خالی راستہ اچھا لگا

ساحلوں پر ہاتھ لہرانے لگے
مجھ کو اپنا ڈوبنا اچھا لگا

شام جیسے آنکھیں جھپکانے لگی
اس کے ہاتھوں میں دیا اچھا لگا

بچے نے تتلی پکڑ کر چھوڑ دی
آج مجھ کو بھی خدا اچھا لگا

ہلکی بارش تھی ہوا تھی شام تھی
ہم کو اپنا بھیگنا اچھا لگا

وہ دریچے میں کھڑی اچھی لگی
ہار بستر پر پڑا اچھا لگا

جانتی تھی وہ میں رک سکتا نہیں
لیکن اس کا روکنا اچھا لگا

وہ تو قیصرؔ مر مٹی میرے لیے
جانے اس کو مجھ میں کیا اچھا لگا

نذیر قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم