MOJ E SUKHAN

قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیا

قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیا
وہ ایک حرف جو مری زبان سے نکل گیا

بہت زیادہ جھکنا پڑ رہا تھا اس کے سائے میں
سو ایک دن میں اس کے سائبان سے نکل گیا

ابھی تو تیرے اور ترے عدو کے درمیان ہوں
اگر کبھی میں تھک کے درمیان سے نکل گیا

مرے عدو کے خواب چکنا چور ہو کے رہ گئے
میں جست بھر کے دشت امتحان سے نکل گیا

ترے کمال فن کا صرف میں ہی قدردان ہوں
اگر میں تیری اس بھری دکان سے نکل  گیا

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم