MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو
چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو

چلو اپنا ہی منظر آپ دیکھیں
کہاں جائیں تماشا دیکھنے کو

سر مقتل کسے لایا گیا ہے
چلی آتی ہے دنیا دیکھنے کو

فسردہ پھول اڑتے زرد پتے
چمن میں رہ گیا کیا دیکھنے کو

ملی ہے مختصر سی فرصت دید
تماشا گاہ دنیا دیکھنے کو

چراغ رہ گزر جگنو ستارا
کرن کوئی تو رستا دیکھنے کو

پھرے ہیں انجمن در انجمن ہم
اسے جلوہ بہ جلوہ دیکھنے کو

یزدانی جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم