MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے

تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے
ہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہے

بس اک ڈھلوان ہے جس پر لڑھکتے جا رہے ہیں ہم
ہمیں جانے نشیبوں میں کہاں جا کر سنبھلنا ہے

ہم اس ڈر سے کوئی سورج چمکنے ہی نہیں دیتے
کہ جانے شب کے اندھیاروں سے کیا منظر نکلنا ہے

ہمارے دل جزیرے پر اترتا ہی نہیں کوئی
کہیں کس سے کہ اس مٹی نے کس سانچے میں ڈھلنا ہے

نگاہیں پوچھتی پھرتی ہیں آوارہ ہواؤں سے
زمینوں نے زمانوں کا خزانہ کب اگلنا ہے

کسی معصوم سے جھونکے کی اک ہلکی سی دستک پر
انہی پتھر پہاڑوں سے کوئی چشمہ ابلنا ہے

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم