MOJ E SUKHAN

مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے

مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے
نکل گئے اپنی دھن میں اس کے نگر سے آگے

شجر سے اک عمر کی رفاقت کے سلسلے ہیں
نگاہ اب دیکھتی ہے برگ و ثمر سے آگے

یہ دل شب و روز اس کی گلیوں میں گھومتا ہے
وہ شہر جو بس رہا ہے دشت نظر سے آگے

خجل خیالوں کی بھیڑ حیرت سے تک رہی ہے
گزر گیا رہرو تمنا کدھر سے آگے

طلسم عکس و صدا سے نکلے تو دل نے جانا
یہ حرف کچھ کہہ رہے ہیں عرض ہنر سے آگے

نثار ان ساعتوں پہ صدیوں کے سحر عالؔی
جئے ہیں جن کے جلو میں شام و سحر سے آگے

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم