MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا

رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا
رفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گا

داد بیداد کی اس میں کوئی تخصیص نہیں
نقش ہستی میں کوئی رنگ تو بھر جائے گا

آپ اگر مائل تجدید ستم ہو جائیں
رنگ تعلیم وفا اور نکھر جائے گا

ارض تشنہ پہ برس ابر رواں کھل کے برس
بات رہ جائے گی یہ وقت گزر جائے گا

دھوپ اور چھاؤں مسلم مگر اپنی حد میں
وقت پابند نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا

روشنی میں ہے چراغوں کے تلے تاریکی
ہم سمجھتے تھے کہ ماحول سنور جائے گا

عشق تو اپنی جگہ کیف مسلسل ہے عروجؔ
نشۂ بادہ نہیں ہے جو اتر جائے گا

عروج زیدی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم