MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی نہ بھولیے کس کے سبب سے جانے گئے

کبھی نہ بھولیے کس کے سبب سے جانے گئے
شجر گیا تو سمجھئے کہ آشیانے گئے

جس ایک پل کے لئے ہجر سے بنا کے رکھی
وہ ایک پل نہیں آیا کئی زمانے گئے

کبھی نہ لوٹ کے آے وہ جلتے بجھتے چراغ
سیاہ رات میں جو راستہ دکھانے گئے

جب ایک پھول کھلا بے شمار ہاتھ بڑھے
جب اک چراغ جلا سینکڑوں بجھانے گئے

ہمارے ساتھ یہاں رہ گئی تمہاری یاد
تمہارے ساتھ ہمارے بھی دن سہانے گئے

بناۓ پہرا نہیں ہے تو پہرہ دار بھی کیوں
وہیں پہ سانپ بھی جائے جہاں خزانے گئے

واجد امیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم