MOJ E SUKHAN

سبب کیا ہے کبھی سمجھی نہیں میں

سبب کیا ہے کبھی سمجھی نہیں میں
کہ ٹوٹی تو بہت بکھری نہیں میں

رکھی ہے گفتگو اس سے ہر اک پل
سخن جس سے کبھی رکھتی نہیں میں

یہ چوٹ اپنے ہی ہاتھوں سے لگی ہے
کسی کے وار سے زخمی نہیں میں

کروں کیوں یاد تیرے خال و خد اب
شکستہ آئنے چنتی نہیں میں

عجب تھی رہ گزر بھی ہمرہی کی
قدم رکھ کر کبھی پلٹی نہیں میں

جو پہنچی ساحلوں پر تب کھلا ہے
کہ اب وہ تشنگی رکھتی نہیں میں

شاہدہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم