MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم اپنے عہد سے وابستہ بھی جدا بھی ہیں

ہم اپنے عہد سے وابستہ بھی جدا بھی ہیں
ہیں خاک زاد مگر خاک سے خفا بھی ہیں

ہم ان سے لطف طلب ہیں اگرچہ جانتے ہیں
ہم اپنے واسطے خود باعثِ سزا بھی ہیں

وہ لوٹ آئیں تو تخفیف ہو بھی سکتی ہے
یہ اور بات کہ کچھ درد لا دوا بھی ہیں

یہ ایک طرفہ تماشہ ہے دیکھیے کیا ہو
انا پرست محبت میں مبتلا بھی ہیں

دل و دماغ کے اس کھیل کی بدولت ہم
ہیں اپنی ذات میں کچھ قید کچھ رہا بھی ہیں

یہ بے زبانی نہیں ہے تہی معانی سے
درونِ ساعت دوراں ہم اک نوا بھی ہیں

یہ چھاؤں بانٹتے ہیں اور دعائیں لیتے ہیں
ترے فقیر تونگر بھی ہیں گدا بھی ہیں

یوسف خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم