MOJ E SUKHAN

باقی رہی نہ خاک بھی میری زمانے میں

باقی رہی نہ خاک بھی میری زمانے میں
اور برق ڈھونڈتی ہے مجھے آشیانے میں

اب کِس سے دوستی کی تمنا کریں گے ہم
اِک تم جو مل گئے ہو سارے زمانے میں

اے حسن! میرے شوق کو الزام تو نہ دے
تیرا تو نام تک نہیں میرے فسانے میں

روئے لپٹ لپٹ کے غمِ دو جہاں سے ہم
وہ لذتیں ملیں ہمیں آنسو بہانے میں

ہر سانس کھنچ کے آئی ہے تلوار کی طرح
کیا جان پر بنی ہے غمِ دل چُھپانے میں

ہنس ہنس کے سیف یوں نہ حکایات دل سُنا
آنسو چھلک رہے ہیں ترے مسکرانے میں

سیف الدین سیف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم