MOJ E SUKHAN

رنج وحشت زدہ نہ کر ڈالے

رنج وحشت زدہ نہ کر ڈالے
تم کو مجھ سےجدا نہ کرڈالے

تیز تر ہے یہ وقت کی آندھی
یہ تمہیں بے ردا نہ کر ڈالے

کام لینا ذرا مروت سے
کوئی ہم سے گلہ نہ کر ڈالے

رابطے ہیں دعا سلام کے بس
مفلسی لب کُشا نہ کر ڈالے

لوگ آپس میں اب نہیں ملتے
کہ کوئی مدعا نہ کر ڈالے

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم