MOJ E SUKHAN

وجدان میں وہ آیا الہام ہوا مجھ کو

وجدان میں وہ آیا الہام ہوا مجھ کو
میں بھول گیا اس کو وہ بھول گیا مجھ کو

اب ڈوب ہی جانے دے اتنا نہ گرا مجھ کو
شرمندہ نہ کر ڈالے تنکے کی انا مجھ کو

میں گمشدہ لوگوں کی فہرست میں دب جاتا
وہ تو مرے دشمن نے پہچان لیا مجھ کو

اس عہد میں کیا رکھا تھا جس پہ بسر ہوتی
کیا ہوتا جو ورثے میں ملتا نہ خدا مجھ کو

اتنی بڑی دنیا میں کب سے میں اکیلا ہوں
اے رب کریم اپنے بندوں سے ملا مجھ  کو

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم