MOJ E SUKHAN

یہ کیوں کہوں کہ لگی آگ آشیانے کو

یہ کیوں کہوں کہ لگی آگ آشیانے کو
کیا ہے برق نے روشن سیاہ خانے کو

شراب نغمہ جوانی گھٹائیں موسم گل
صدائیں وہ مرے گزرے ہوئے زمانے کو

بھرے چمن میں بس اک اس وقف ماتم ہے
سمجھ رہی ہے جو کلیوں کے مسکرانے کو

یہ روز روز کی مشق سجود ختم تو ہو
جبیں میں جذب ہی کر لوں نہ آستانہ کو

قفس میں بھی نہ کہیں بجلیوں کی یورش ہو
بنا رہا ہوں تصور میں آشیانے کو

یہ بے خودی ہے تری مست انکھڑیوں کی قسم
کہ رند بھول گئے ہیں شراب خانے کو

گزر رہی ہے کچھ اس ڈھب سے زندگی ماہرؔ
کہ جیسے میری ضرورت نہیں زمانے کو

ماہر القادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم