MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں جانتا ہوں کون ہوں میں اور کیا ہوں میں

میں جانتا ہوں کون ہوں میں اور کیا ہوں میں
دنیا سمجھ رہی ہے کہ اک پارسا ہوں میں

اب مجھ میں اور تجھ میں کوئی فاصلہ نہیں
تو میرا مدعا ہے ترا مدعا ہوں میں

واعظ جبین شوق جھکے تو کہاں جھکے
نقش قدم ہی ان کے ابھی ڈھونڈھتا ہوں میں

دل کو تجلیات کا مرکز بنا لیا
اب ان کا نام لینے کے قابل ہوا ہوں میں

ناصح تری نگاہ میں بادہ پرست ہوں
میکش سمجھ رہے ہیں بڑا پارسا ہوں میں

فرصت ملے کشاکش دنیا سے تو کہوں
کس وہم کس گمان میں الجھا ہوا ہوں میں

اہل خرد کی عقل پہنچتی نہیں جہاں
وصفیؔ جنوں میں ایسی جگہ آ گیا ہوں میں

عبد الرحمان خان بہرائچی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم