MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا
دیکھو مجھے گر تم نے سمندر نہیں دیکھا

گزرا ہوا لمحہ تھا کہ بہتا ہوا دریا
پھر میری طرف اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا

اک دشت ملا کوچۂ جاناں سے نکل کر
ہم نے تو کبھی عشق کو بے گھر نہیں دیکھا

تھے سنگ تو بیتاب بہت نقش گری کو
ہم نے ہی انہیں آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا

اک عمر سے ہے جو مری وحشت کا ٹھکانہ
خوشیوں کی طرح تو نے بھی وہ گھر نہیں دیکھا

نفرت بھی اسی سے ہے پرستش بھی اسی کی
اس دل سا کوئی ہم نے تو کافر نہیں دیکھا

خواہش کو یہاں حسب ضرورت نہیں پایا
حاصل کو یہاں حسب مقدر نہیں دیکھا

ہر حال میں دیکھا ہے اسے ضبط کا پیکر
تشنہؔ کو کبھی ظرف سے باہر نہیں دیکھا

عالم تاب تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم