MOJ E SUKHAN

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی
دیکھا اسے تو اپنی خبر تک نہیں رہی

احساس پر گراں رہا احساس کا طلسم
یہ عمر کی تکان سفر تک نہیں رہی

جن پر تمہارے آنے سے کھلتے رہے گلاب
اب دل میں ایسی راہ گزر تک نہیں رہی

اک دن وہ گھر سے نکلے نہیں سیر کے لیے
اب خواہش نمو میں سحر تک نہیں رہی

جس کو چھوا تھا ہم نے کڑی دھوپ جھیل کر
وہ چھاؤں بھی تو زیر شجر تک نہیں رہی

خوش ہے وہ آنکھ کار مسیحائی چھوڑ کر
تاثیر اس کی زخم جگر تک نہیں رہی

تم کیسے موسموں میں ہمیں ملنے آئے ہو
پیڑوں پہ اب تو شاخ ثمر تک نہیں رہی

فرحتؔ میں دستکیں لئے ہاتھوں میں رہ گیا
میری رسائی اب ترے در تک نہیں رہی

ڈاکٹر فرحت عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم