MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میرے مہ جبیں نے بصد ادا جو نقاب رخ سے اٹھا دیا

میرے مہ جبیں نے بصد ادا جو نقاب رخ سے اٹھا دیا
جو سنا نہ تھا کبھی ہوش میں وہ تماشا مجھ کو دکھا دیا

ملا شب جو خواب میں وہ حسیں یہ کہا تھا نکلے گی حسرتیں
یہ جفا یہ باد سحر نے کی چلی یوں کہ مجھ کو جگا دیا

میں اگرچہ خاک میں مل چکا مگر ان کے دل میں غبار تھا
کہ نشان قبر بھی ڈھونڈھ کر میرے سنگ دل نے مٹا دیا

چھٹے قید دیر و حرم سے ہم ہوئے خواب وہ جو خیال تھے
مجھے ساقیا مے بے خودی کا وہ جام تو نے پلا دیا

تجھے دیکھ او بت خوش ادا پھری آنکھ ساری خدائی سے
وہ جو یاد رہتی تھی صورتیں انہیں صاف دل سے بھلا دیا

میں وہ مرغ خانہ خراب ہوں کہ چمن قفس کا ہے ذکر کیا
لیا گر حسینوں نے مول بھی مجھے صدقہ کر کے اڑا دیا

میرا گرچہ اوگھٹؔ نام ہے پر کرم ہے وارثؔ پاک کا
زہے شان دم میں غنی کیا کہ گدا سے شاہ بنا دیا

اوگھٹ شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم