MOJ E SUKHAN

کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے

کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے
کتنا دشوار کنیزوں کا کنوارا پن ہے ۔

یہ کسی ایک کہانی سے نہیں اَخذ شدہ
جھوٹ تاریخ کا مجموعی کمینہ پن ہے ۔

اشک ہیں نُوری خزینوں کے نگینے جیسے
تیرے غمگین کی آنکھوں میں اچھوتا پن ہے

۔ معذرت آپ کی آواز نہیں سُن پایا
میرے ہمراہ کئی سال سے بہرہ پن ہے ۔

ہم خد و خال سے اندازہ لگا لیتے ہیں
واقعی دشت ہے یا ذہن کا سُوکھا پن ہے ۔

جلتے خیموں کا دھواں ساتھ لیے پھرتا ہوں
غم کا احساس مری ذات کا کڑوا پن ہے ۔

خوبصورت ہے مگر شک میں گھری ہے ساجد
جیسے دنیا کسی مٹیار کا سُونا پن ہے

لطیف ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم