گھونگھٹ گرا کے اور کبھی گھونگھٹ اُٹھا کے میں
کاغذ پہ دیکھ لیتا ہوں دُلہن بنا کے میں
کوئی نہیں ہے میرے لیے چشمِ منتظر
جاتا نہیں ہوں گھر سے کسی کو بتا کے میں
بے سُدھ پڑا ہوا ہوں میں بستر پہ اس طرح
لیٹا ہوں جیسے قبر میں خود کو دبا کے میں
آیا تھا مجھ سے ملنے وہ، آیا تھا یا نہیں
اب پوچھتا نہیں ہوں کسی سے بھی جاکے میں
ناراض ہوں نہ آپ تو اک بات پوچھ لوں
خوش کیوں نہیں ہوں آپ کو اپنا بنا کے میں
ہوتا ہے ایک آئنہ حدّ ِ نظر تلک
جب دیکھتا ہوں بیچ سے دنیا ہٹا کے میں
بابر کسی بھی شخص کو آنا نہیں تو پھر
رکھتا ہوں کس کے واسطے کمرہ سجا کے میں
فیض عالم بابر