MOJ E SUKHAN

سمندر سر پٹک کر مر رہا تھا

سمندر سر پٹک کر مر رہا تھا
تو میں جینے کی کوشش کر رہا تھا

کسی سے بھی نہیں تھا خوف مجھ کو
میں اپنے آپ ہی سے ڈر رہا تھا

گزارش وقت سے میں نے نہ کی تھی
کہ میرا زخم خود ہی بھر رہا تھا

ہزاروں سال کی تھی آگ مجھ میں
رگڑنے تک میں اک پتھر رہا تھا

تجھے اس دن کی چوٹیں یاد ہوں گی
مجھے پہچان، تیرے گھر رہا تھا

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم