MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے
دوسری عورت پہلی جیسی کب ہوتی ہے

کچھ مفہوم سمجھ کر آنکھیں بول اٹھیں
سرگوشی تو یوں ہی زیر لب ہوتی ہے

کوئی مسیحا شاید اس کو چھو گزرا
دل کے اندر اتنی روشنی کب ہوتی ہے

تارے ٹوٹ کے دامن میں گر جاتے ہیں
جب مہمان یہاں اک دختر شب ہوتی ہے

اک بے داغ دوپٹے میں پاکیزہ نور
کتنی اجلی اس کی نماز میں چھب ہوتی ہے

گری پڑی دیکھی ہے سڑک پر تنہائی
پچھلے پہر کو شہر کی نیند عجب ہوتی ہے

اکثر میں نے قبرستان میں غور کیا
اپنی مٹی اپنے ہاتھ میں کب ہوتی ہے

اب لگتا ہے اک دل بھی ہے سینے میں
پہلے کچھ تکلیف نہیں تھی اب ہوتی ہے

عشق کیا تو اپنی ہی نادانی تھی
ورنہ دنیا جان کی دشمن کب ہوتی ہے

قدم قدم پر ہم نے آپ سے نفرت کی
ایسی محبت دل میں کسی کے کب ہوتی ہے

جیسے اک جنت کی نعمت مل جائے
میرے لئے تو گھر کی فضا ہی سب ہوتی ہے

ڈوبنے والا پھر اوپر آ جاتا ہے
کبھی کبھی دریا کی موج غضب ہوتی ہے

رشک سے میرا چہرہ تکتی ہے دنیا
جان کی دشمن اس کی سرخیٔ لب ہوتی ہے

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم