MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسے بچھڑے ایسے اجڑے حال نہ پوچھا دونوں نے

ایسے بچھڑے ایسے اجڑے حال نہ پوچھا دونوں نے
اپنے اپنے ہونٹ پہ رکھا اک انگارہ دونوں نے

کیسی کیسی دنیاؤں کے ہم دونوں نے خواب بُنے
اور پھر کیسی دنیاؤں میں وقت گزارا دونوں نے

اس کے سوا تو بات کوئی اور کوئی وعدہ یاد نہیں
راول جھیل کے اک پتھر پر شعر لکھا تھا دونوں نے

کیسی آنکھوں میں ویرانی کیسا دھندلا چہرہ تھا
اک دوجے کو اتنے سالوں بعد جو دیکھا دونوں نے

جانے کون سے پٙل میں ریت کا رشتہ ٹوٹا پیروں سے
آتی جاتی لہروں کا تو رستہ روکا دونوں نے

الجھی باتوں میں کاٹی قیوم مسافت عمروں کی
اک چھوٹے سے موڑ پہ پوچھا گھر کا رستہ دونوں نے

قیوم طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم