سکوت ہوں کہ صدا ہوں مجھے نہیں معلوم
میں کیسی راہ چلا ہوں مجھے نہیں معلوم
مری سرشت سے کس فکر کی ہوئی تائید
حریف کس کا بنا ہوں مجھے نہیں معلوم
مرے جواب پہ کیا کیا سوال برسے ہیں
غلط نما کہ بجا ہوں مجھے نہیں معلوم
کبھی ہوں برف کبھی دھوپ کا میں آرزومند
میں کیسی شے سے بنا ہوں مجھے نہیں معلوم
خطا ہوئی ہے کہاں دن کی پیش بینی سے
کہاں سے شب کو ملا ہوں مجھے نہیں معلوم
کِیا ہے صرف مجھے وقت کس سلیقے سے
ابھی میں کتنا بچا ہوں مجھے نہیں معلوم
کہاں پہ میرے تصور نے ٹھوکریں کھائیں
کہاں قبول ہوا ہوں مجھے نہیں معلوم
ہوا کے کہنے پہ موجوں نے قتل و غارت کی
کنارے کیسے لگا ہوں مجھے نہیں معلوم
ہے اتنا یاد کہ آندھی چلی قیامت خیز
شجر پہ ہوں میں گرا ہوں مجھے نہیں معلوم
طلوع ہوا تھا کہاں سے یہ آگہی ہے مگر
کہاں غروب ہوا ہوں مجھے نہیں معلوم
عبور کرنے ہیں منظور مرحلے کتنے
کہاں پہ آ کے رکا ہوں مجھے نہیں معلوم
احمد منظور