اس انتہائے قرب کی منزل ملال ہے
اے دوست ہر عروج کو آخر زوال ہے
میں بھی تو اپنے آپ سے مصروفِ جنگ تھا
مجھ سے مرا سلوک مرے حسبِ حال ہے
بچھڑے ہیں اس خلوص سے دونوں کہ شہر میں
اب ترکِ دوستی بھی ہماری مثال ہے
قاتل ہے سب کی آنکھ کا تارا بنا ہوا
کیسا یہ معجزہ ہے، یہ کیسا کمال ہے
اس بارشِ فراق میں ہر روز گر پڑے
دیوارِ جاں بھی آج کل جاں کا وبال ہے
ہر سال ایک عید مبارک کی شکل میں
اتنا تو ہے کہ رابطہ اُس سے بحال ہے
ہے عشق بے نیازِ ثواب و سزا نعیم
بدعت وفا کی شرع میں ہجر و وصال ہے
محمد نعیم جاوید نعیم