MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں

اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں
یوں ہے کہ ذرا خود کو سنبھالے ہوئے ہم ہیں

اس بزم میں اک جشن چراغاں ہے انہی سے
کچھ خواب جو پلکوں پہ اجالے ہوئے ہم ہیں

کچھ اور چمکتا ہے یہ دل جیسا ستارا
کن درد کی لہروں کے حوالے ہوئے ہم ہیں

دل ہے کہ کوئی فیصلہ کر ہی نہیں پاتا
اک موج تذبذب کے اچھالے ہوئے ہم ہیں

وہ ہو نہ سکا اپنا تو ہم ہو گئے اس کے
اس شخص کی مرضی ہی میں ڈھالے ہوئے ہم ہیں

اس مملکت لفظ و بیاں میں بھی تو اشفاقؔ
اک راہ الگ اپنی نکالے ہوئے ہم ہیں ہم

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم