MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کو کیسے سمجھوں یارو کتنا وہ پیچیدہ ہے

اس کو کیسے سمجھوں یارو کتنا وہ پیچیدہ ہے
میں دیکھوں تو ہنس دیتا ہے ویسے وہ سنجیدہ ہے

میری آنکھوں میں وہ چھپ کر سب سے ہی چھپ جاتا ہے
دل میں میرے رہتا ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہے

نیند سے جاگی سوئی آنکھیں مجھ کو پاگل کرتی ہیں
جاگتے دیکھوں اس کا چہرہ لیکن وہ خوابیدہ ہے

شوخ بدن وہ پیارا ساتھی ساتھ مرے ہی ہنستا تھا
چند دن دوری دے کر دیکھا ؛ کتنا وہ رنجیدہ ہے

میری کم گوئی کا اس کو اندازہ تو خوب ہوا
میرا دل بھی پہلو اندر اب کتنا شوریدہ ہے

کون اسے سمجھائے جا کر اس کا تو ماہتاب ہوں میں
اس کے ساتھ ہوں سایہ بنکر جو غم سے لرزیدہ ہے

ماہتاب دستی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم