MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دور خزاں میں جشن بہاراں دکھائی دے

دور خزاں میں جشن بہاراں دکھائی دے
اب چاک چاک اپنا گریباں دکھائی دے

کب تک رہیں گے ساحل و طوفاں کے درمیاں
کب تک یہ زندگی ہمیں زنداں دکھائی دے

میرے خدا سزا و جزا اب یہاں بھی ہو
یہ سرزمیں بھی عدل کا عنواں دکھائی دے

اس دور گمرہی کی ضرورت ہے نوح کی
ساحل بدست پھر وہی طوفاں دکھائی دے

منظرؔ میں تھک چکا ہوں یہی ڈھونڈتے ہوئے
اس دور نا شناس میں انساں دکھائی دے

جاوید منظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم