agarcha dil yeh ghabraya bohat hay
غزل
اگرچہ ! دل یہ گھبرایا بہت ہے
ترے غم کا بھی سرمایا بہت ہے
یہ دنیا چھوڑ دینگے ہم یقینًا
کہ اس میں موہ اور مایا بہت ہے
یہاں لڑتے ہیں کیوں شیخ و برھمن
یہی واعظ نے فرمایا بہت ہے
کہ جتنی بھولنے کی کوششیں کیں
وہ اتنا یاد اور آیا بہت ہے
ہمیں تو موت تک اس زندگی نے
سنہرہ خواب دکھلایا بہت ہے
دعائیں پھر بھی نکلی ہیں زباں سے
ستم دشمن نے تو ڈھایا بہت ہے
اجالا مختصر ہے میرے تن پر
مگر دیکھو ! قمرؔ سایا بہت ہے
قمرِ عالم قمرؔ Qamer alam qamer