Nazar aati Mujh ko wo chahat Nahi Hay
غزل
نظر آتی مجھ کو وہ چاہت نہیں ہے
دلوں میں بھی کوئی محبت نہیں ہے
لبوں کو تو نازک کہا میر نے تھا
مگر تیرے لب کی وہ حالت نہیں ہے
کیے جا رہا ہے کنارا کشی تو
محبت کی تجھ کو ضرورت نہیں ہے
ریاست مدینے کے دعوے بہت ہیں
مگر ٹھیک ان کی تو نیت نہیں ہے
وطن میں مرے آگ مہنگائی کی ہے
کہیں اچھی دیکھی حکومت نہیں ہے
تھے آئے بڑی شان سے کرنے خدمت
رہی اچھی اب ان کی شہرت نہیں ہے
سمجھتے ہیں معصوم کی شاعری کو
محبت ہے اس میں رقابت نہیں ہے
انعام الحق معصوم صابری
Inam Ul Haq Masoom Sabri