MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سلیمؔ کس کو بتاؤں ابھی سے کیا ہوں میں

Saleem Kiss ko Bataoon abhi say kia Hoon Main

غزل

سلیمؔ کس کو بتاؤں ابھی سے کیا ہوں میں
ابھی تو کارِ تمنا کی ابتدا ہوں میں

تری کشش سے ترے گرد رقصِ شوق میں ہوں
جو قُرب سے نہیں گھٹا وہ فاصلہ ہوں میں

مری شکست سے تو بھی بکھر نہ جائے کہیں
مجھے سنبھال کے رکھ تیرا آئینہ ہوں میں

نشاط و درد کے ہر حال میں ہوا محسوس
کہ جیسے دور کھڑا خود کو دیکھتا ہوں میں

تو یاد ہے ترا کوئی حوالہ یاد نہیں
وفا جفا کے وہ قصے بھلا چکا ہوں میں​

سلیم احمد​

Saleem Ahmed

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم