MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں اس نے کہیں کا بھی نہ رکھا

ہمیں اس نے کہیں کا بھی نہ رکھا
تخصص نے کہیں کا بھی نہ رکھا

ہواؤں کو کہاں ہم مانتے تھے
تنفس نے کہیں کا بھی نہ رکھا

بڑی نعمت تھی کم علمی ہماری
تجسس نے کہیں کا بھی نہ رکھا

تسلسل ہجرتوں کا کہہ رہا ہے
توا ر ث نے کہیں کا بھی نہ رکھا

ھمارے زخم چھپ سکتے تھے لیکن
تشخص نے کہیں کا بھی نہ رکھا

بزرگی وجہ _ تنہائی بنی ہے
تقدس نے کہیں کا بھی نہ رکھا

نہ تھے مقبول رسوا آپ لیکن
تخلص نے کہیں کا بھی نہ رکھا

مقبول زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم