غزل
چاہا تھا میں نے جیسا یہ ویسا نہیں لگا
یہ عشق سچ کہوں مجھے اچھا نہیں لگا
شاید کہ تھک چکے ہیں مرے رشتے دار سب
دو چار دن سے زخم جو تازہ نہیں لگا
بہتا رہا لہو مرا سینے پہ دشت کے
کل رات مجھ کو دشت پیاسا نہیں لگا
پھونکی سروشِ عشق نے بس آیتِ وفا
پھر اس کے بعد کوئی عدو سا نہیں لگا
جدت نے ایسی پھیری ہے جھاڑو کہ اب مجھے
اپنا ہی سایا ہائے شناسا نہیں لگا
تنہائی مجھ سے ہونے ہی والی تھی ہم کلام
اچھا ترا یوں لوٹ کے آنا نہیں لگا
میں نے بساطِ عشق پہ رکھے تھے دو قدم
کوئی بھی راہ رو مجھے مجھ سا نہیں لگا
میرے خلاف جس نے بھی کھینچا کمان کو
اپنا مجھے لگا وہ پرایا نہیں لگا
ساقی نے مفلسی کو دیا بے حسی کا جام
پھر اس کو تلخ کوئی بھی لہجہ نہیں لگا
آ میرے پاس موجِ نسیمی کریں حساب
اس دل پہ تیر دیکھیں تو کس کا نہیں لگا
نسیم شیخ