MOJ E SUKHAN

ہاتھوں سے ہر لکیر کھرچ کر مٹائی ہے

ہاتھوں سے ہر لکیر کھرچ کر مٹائی ہے
تب جا کے وہ حسیں مری قسمت میں آئی ہے

یہ زندگی تلاش محبت میں میں نے بھی
ایسے گنوائی ہے کبھی ویسے گنوائی ہے

ماتھے پہ لے کے پھرتا ہوں اس بے وفا کا غم
میں نے بھی کس سلیقے سے تہمت سجائی ہے

پہلے پہل تو وہ مرے پہلو سے آ لگی
پھر اس کے بعد اس نے قیامت اٹھائی ہے

ایسے ہی تھوڑی ذائقہ آیا ہے چائے میں
چینی کے ساتھ اس نے محبت ملائی ہے

تم کو بتاؤں راز میں شیریں زبان کا
گھٹی میں اردو گھول کے ماں نے چٹائی ہے

یاسر سعید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم